ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پلوامہ حملے میں پنجاب کے 4 جوان شہید، رشتہ داروں نے کہا، حکومت سبق سکھائے

پلوامہ حملے میں پنجاب کے 4 جوان شہید، رشتہ داروں نے کہا، حکومت سبق سکھائے

Fri, 15 Feb 2019 23:39:21    S.O. News Service

نئی دہلی،15 ؍فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) جموں و کشمیر کے پلوامہ میں جمعرات کو مرکزی ریزروپولیس فورسز (سی آر پی ایف) کے قافلے پر حملے میں پنجاب کے چار جوان شہید ہو گئے۔جوانوں کے گاؤں میں ماتم کا ماحول ہے۔شہید ہوئے جوانوں کے دیہات میں غم کی لہر ہے اور ان کی آخری تدفین کے لئے ان کے لواحقین ان کی لاشوں کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔دیہاتیوں اور شہیدوں کے اہل خانہ نے حملے پر اپنا غصہ نکالا اور مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت کو ان کی موت کا بدلہ لینا چاہئے اور دہشت گردوں کو کرارا جواب دینا چاہئے۔

جموں و کشمیر میں 1989 میں دہشت گردی کی زیادتی کے بعد سے وادی میں ہوئے سب سے زیادہ مہلک حملے میں سی آر پی ایف کے تقریبا 41 سے زیادہ فوجی شہید ہو گئے اور بہت سے زخمی ہو گئے۔جمعرات کو پلوامہ ضلع میں سرینگر۔جموں شاہراہ پر ایک خود کش حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھری اپنے ایس یو وی کو سی آر پی ایف جوانوں کی بس میں ٹککر مار کر اڑا دیا تھا۔پنجاب کے چار شہیدوں میں موگا ضلع کے جیمال سنگھ، ترن تارن کے سکھجندر سنگھ، گرداس پور کے مندر سنگھ اتری اور روپڑ کے کلودر سنگھ شامل ہیں۔ایک وطن گرنام سنگھ نے کہاکہ سکھجندر کا سات ماہ کا ایک بیٹا ہے ۔وہ کچھ دن پہلے ہی اپنے بیٹے کی پہلی لوہڑی پر گھر آیا تھا اور حال ہی میں واپس گیا تھا۔موگا ضلع کے دھرم کوٹ میں گھلوٹی گاؤں رہائشی جیمال سنگھ (44) اس بس کا ڈرائیور تھا جس پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا۔ان کے والد جسونت سنگھ نے کہاکہ ہمارا بیٹا ملک کے لئے شہید ہو گیا۔اس کی تلافی نہیں ہو سکتی، لیکن ہماری حکومت اور فوج کو پاکستان کی حرکت کے لئے اس کوسبق سکھانا چاہئے۔ جیمال سنگھ کے گھر میں ان کے بوڑھے والدین، بیوی، 10 سالہ بیٹے اور چھوٹا بھائی ہے۔


Share: